دل گرفتگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غمگینی، ملالِ خاطر، اداسی۔ "دل گرفتگی نے کہا ایسی شادابی اس ویرانی پر قربان جہواں مادر ایام کی ساری دختران آلام موجود ہوں مگر وبائے قحط الرجال نہ ہو۔"      ( ١٩٧٣ء، آوازِ دوست، ٥٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دل' کے بعد مصدر 'گرفتن' سے حالیہ تمام 'گرفتہ' کی 'ہ' حذف کر کے 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٩٣ء سے "بست سالہ عہد حکومت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غمگینی، ملالِ خاطر، اداسی۔ "دل گرفتگی نے کہا ایسی شادابی اس ویرانی پر قربان جہواں مادر ایام کی ساری دختران آلام موجود ہوں مگر وبائے قحط الرجال نہ ہو۔"      ( ١٩٧٣ء، آوازِ دوست، ٥٠ )

جنس: مؤنث